عید الاضحٰی یعنی قربانی کی عید !تو اس کا مطلب قربانی۔۔۔نہ کے بذات خود گوشت پر قربان ہو جانا۔۔۔جیسا کہ عموما ہمارے ہاں ہوتا آرہا ہے ۔۔وہ ایسے ہم خطیر رقم خرچ کرکے جانور تو ایک سے زیادہ بھی لے آتے ہیں ۔۔سارے معاملات بڑی خوشنودی اور اچھے طریقے سے ہوتے ہیں بات اس وقت بگڑتی ہے جب گوشت کی تقسیم ہونا ہوتی ہے ۔۔تب ہمارا ایمان متزلزل ہونے لگتا ہےاور پھر کچھ یوں ہوتا ہے جو میرا ہے وہ تو میرا ہی ہے تیرا بھی میرا ہی ہے ؟جو کہ سراسر غلط ہے ۔۔سننے میں آتا ہے کہ پرانے وقتوں میں پیسہ بہت نایاب تھا اور غربت عروج پر ۔اسوجہ سے اکثریت کو عید پر ہی گوشت نصیب ہوتا تھا ۔اس کے برعکس آج کے دور میں پیسے کی ریل پیل ہے۔۔ یاد رہے آسان اور سیدھی سی بات ہے اس میں کوئی راکٹ سائنس نہیں۔۔ قربانی صرف صاحب حیثیت پر ہی فرض ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں وہ تو اس فرض سے بالکل بری(آزاد )ہے ۔۔صاحب حیثیت لوگ تو پورا سال رنگ رلیاں مناتے ہیں تو
قربانی کے رنگ میں بھنگ ڈالنا ضروری ہے!گوشت تو ہم سال کے ھر مہینے بلکہ ہر روز بھی کھاسکتے ہیں کوئی پابندی نہیں۔۔قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے یا ہونے چاہئیں(زیادہ جانور )۔۔بکرا دنبہ 'گائے یا اونٹ وغیرہ۔۔کچھ یاد کراتی چلوں۔عید کے گوشت کے علاوہ عام دنوں میں جب بھی ہم گوشت خریدتے ہیں گوشت چاہے مرغی/chicken
دنبہ/بکرا/sheep or 🐐
گائے یا بھینسcow or buffalo 🐃/
کا ہو ۔۔ہر ایک کی زبان پر ایک ہی شکایت ہوتی ہے اور اکثر اس بات پر قصاب کو لتاڑتے رہتے ہیں کہ بھائی گوشت میں آدھے سے زیادہ تو چربی ڈال دی ۔۔صرف پسلیاں اور گردنیں۔۔اللہ ہی پوچھے ملاوٹ سے باز نہیں آتے یہ لوگ ۔۔آدھے سے زیادہ تو گوشت دھوتے وقت گندگی نکل آتی ہے چھیچھڑے چربی انتڑیاں وغیرہ۔۔
بلکل یہ چیزیں گندگی ہیں اور یہ کبھی بھی کھانے والی نہیں چاہے گوشت قربانی کا ہو یا عام طور پر ذبح کیا ہوا جانور !تو قربانی کے جانور کی گندگی کیوں اتنی مقدس ہو جاتی ہے ۔۔کہ ہم لوگ قربانی کیلئے چھپائی(تحریر کنندہ )والے پیکٹ وغیرہ جنکی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے وہ بھی خرید لیتے ہیں اور اندر گوشت کے نام پر محض ہڈیاں چربی اور انتڑیاں وغیرہ اگر غلطی سے اک آدھ گوشت کا ٹکڑا برآمد ہو بھی جائے تو کیا !
صفائی نصف ایمان ہے اس سے تو کوئی منکر نہیں تو اس عید صرف اسی بنیاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے۔۔صاف ستھرا گوشت خود بھی کھائیں اور دوسروں کو بھی کھلائیں۔
✅️
ھمارے ہاں عموما jointفیملی سسٹم (مشترکہ خاندانی نظام )
رائج ہے۔
کم گنجائش زیادہ لوگ رہنے پر مجبور ہیں
✅️
جدید دور میں گروسری سٹور
(grocery stores)
بہت اعلٰی کام کر رہے ہیں۔۔پاکستان میں جو المیہ ہے گوشت حلال جانور کا ہےیا
حرام/مردار کا۔۔یہ تو خدا ہی جا نے ۔۔لیکن اگر ہم الفتح/امتیاز مارٹ پاپولر پاکستانی سٹورز کی بات کریں۔۔تو پیکنگ بھی اعلٰی اور گوشت صاف آلائشوں سے بلکل پاک ۔۔تو آپ بھی اس عید اسی کو پیٹرن
(example to
(follow)
کو مد نظر رکھیں۔۔اور خدارا گوشت اتنا تو دیں سفید پوش لوگوں کی سفید پوشی بھی قائم رہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم کے ھمارے خود ساختہ وضع کردہ قوانین ۔۔۔۔1
Exchange policy
م ۔۔گوشت لو اور گوشت دو یعنی آسان الفاظ میں جو ہمیں گوشت بھیجے گا ہم صرف اسی کو گوشت بھیجیں گے ۔۔
۔۔2اپنا بانٹے ریوڑیاں اپنوں میں یعنی قربانی کے گوشت میں اپنے ہی افراد میں تقسیم کی اور گوشت رکھ لیا ۔۔
3۔۔گھریلو ملازمین جو محض تھوڑی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ہم ان کے حصے کا گوشت یہ کہہ کر ہڑپ لیتے ہیں کہ انہیں اور گھروں سے بھی گوشت آنا ہے جہاں یہ کام کرتے ہیں۔۔انہیں تھوڑا ہی بہت ہے وغیرہ۔۔سوچنے کی بات ہے نا اگر ایک گھر میں 20 یا 25 لوگ ہوں اور وہ ایک نہیں چلو دو جانور قربان کر لیں گے تو ھر بندے کو کتنا گوشت آئے گاجبکہ ہر جانور میں 1حصہ آپکا ہوتا ہے ۔۔۔کھانے کی بجائے
store
کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔۔اور پھر اس سٹور شدہ گوشت کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔۔۔مثلا شادی کا سٹارٹنگ
(event)
مہندی وغیرہ بھگت جائے گا ۔ اور پھر اس سٹور شدہ گوشت کو ہم لمبے عرصے تک استعمال کرتےہیں ۔عید کے بعد کے دنوں میں ہسپتالوں کی رونق پیٹ کے مریض ہوتے ہیں۔فوڈ پوائزنگ وغیرہ۔۔اب پیٹ میں کچھ خراب جائے گا تو پیٹ اسے اگلے گا ہی نا۔۔جناب ہماری انا ہم نہ مانیں چاہے لینے کے دینے پڑ جائیں۔
ہم پیری مریدی کے بہت شیدائی ہیں۔۔خیر میں تو چکروں کا توڑ دینے لگی ہوں۔۔وہ یوں کہ قربانی کے جانور کا خون آپ کسی بھی جگہ گڑھا کھود کر ڈال دیں تو جنات بھوت پریت 'جادو ٹونہ آپ کسی بھی چکر میں پڑے ہوئے ہیں تو سب کا قلع قمع ہو جائیگا اگر فصل والی جگہ پر ڈالتے ہیں تو زرخیزی آئے گی ۔۔



