کچھ تاریخ نے پڑھایا اور کچھ بزرگوں نے بھی اس بابت بتلایا تھا کہ تقسیم متحدہ ہندوستان سے پہلے مسلم&ہندو میل جول کی وجہ سے رہن سہن اور دوسرے رواج مشترکہ تھے ۔۔۔بنیادی اختلاف دینی نقطہ نظر۔۔۔ایک طرف کے خدا کو ماننے والے اور دوسری طرف شری رام 'بھگوان اور ایشور کے پیروکار۔۔۔علیحدگی کے برسوں بعد بھی بارڈر کے دونوں اطراف کی مخالف قوتیں پاکستان اور بھارت کھانے پینے سے لے کر شادی بیاہ کی رسومات تک ایک دوسرے کی تقلید پر مجبور ہیں۔۔۔بات ساس بہو سیریل کی ہو یا پکوان کی آپ کو ہر جگہ دہرا معیار ملے گا اور اس کے اوپر تھوڑا بہت رنگ فرنگیوں(انگریزوں )کا بھی۔۔۔لو جی بن گیا نا فیوژن۔۔۔تو جناب آج کے اس بلاگ میں اسی بارے مغز ماری ہوگی۔۔۔مشرق کیا مغرب سبھی ایک ساتھ ۔۔۔ترقی کے لحاظ سے گوروں نے ہم دو بچھڑی ہوئی قوموں(Pak &IND)
کو مات دی...اور ہم دونوں نے تہذیب و تمدن کی تقلید میں۔۔۔ہمارے ہاں صبح کا آغاز چائے لسی یا کافی سے ہو گا ۔۔۔اسی طرح اگر مہمان نوازی کا معاملہ ہوتب گوشت روٹی اور چاول کے علاوہ کیک
/cakes
شوارمے/shwarmy
pizza's/پیزے
اور اس جیسے دیگر لوازمات کس دیس کی اختراع ہیں۔۔۔ایک صاحب بڑی عاجزی سے اپنے ناشتے کی تفصیل بتا رہے تھے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔صبح کا آغاز ڈبل روٹی 🍞 اور چائے سے ۔۔بہت سی ڈبل روٹی کھانے کے بعد بھی میری بھوک نہیں مٹتی تو ساتھ میں امی کے ہاتھ کے پراٹھے سالن چائے وغیرہ۔۔
جی بلکل ایسا ہی ہے یہی حال دوپہر lunch اور شام dinners کا ہے بریانی 'نہاری پائے سبزی وغیرہ اور اوپر سے پیزے اور پاستے کی بھرتی۔۔۔
چائے اور چاء
(آوء بھگت )
دونوں ہی لازم و ملزوم ہیں۔۔ھمارے ہاں لوگ چائے کے بہت رسیا ہیں ۔۔ناشتے کے ساتھ ہر کھانے کے بعد اور ہر آنیوالے کو بطور چاء/چاہ
۔۔۔صرف چائے۔۔۔قدیم زمانے میں چائے نایاب تھی اور بیماری کے علاج کے لئے استعمال ہوتی تھی۔۔۔تب یہ چائے طبیب اور حکماء کے دواخانہ سے چھوٹی چھوٹی پڑیوں کی شکل میں دستیاب ہوتی تھی ۔۔۔اور یقینا یہ آزمودہ نسحہ ہوتا ہوگا ۔۔۔
اور اگر بات کریں شادی بیاہ کی تو پہناوے انڈین پاکستانی اور شارٹس وغیرہ۔۔باقی سب تو چلو ٹھیک ہے یہ پھٹے ہوئے کپڑوں کا جو رواج چل نکلا ہے میری تو سمجھ سے بالا ہے ۔۔کیا زمانہ تھا جب پھٹا ہوا کپڑا بدتہذیبی گستاخی اور شرمندگی کا باعث ہوتا ہے اور اب۔۔پھٹے ہوئے دامن 'چیتھڑے چیتھڑے لباس بجائے شرمندگی کے ۔۔گھٹے گھٹے یہ الفاظ ہوتے ہیں ۔۔یہ برانڈڈ ہے۔۔ایہہ آجکل دا رواج ہے ۔۔زندگی میں بہت سے موقعوں پر چھوٹے بڑے حادثات ہوتے رہتے ہیں۔۔بچپن میں جب کبھی کھیلتے ہوئے گر پڑتے تھے نانی مرحوم کے الفاظ کچھ یوں ہوتے تھے۔۔پتر ویکھ کے ٹری دا اے ۔۔کتا تے نئیں مگھر لگ گیا سی؟۔۔چل ہون ایہہ پا ٹے کپڑے لاء کے دوجے پا لے ۔۔چھیتی کر پتر پاٹے کپڑے نہئیں پائ دے۔۔اللہ جنت میں بلند درجات عطا کرے ۔۔نانی جان۔۔اللہ کیخاص عنایت تھیں جو برسوں ہم پر مہربان رہیں۔۔۔اور آج سے تقریباً 4برس پہلے ہم سے بچھڑ کر خالق حقیقی کو جا ملیں
انا للہ وانا الیہ راجعون
بے شک یہی انسان کی حقیقت ہے۔۔۔
