2026 میں کمسن بچوں کے حج کرنے پر پابندی۔۔سعودی حکومت نے حج کیلئے عمر کی حد 15/17 سال کر دی۔

 2026

 میں 15/17 سال سے کم عمر زائرین حج

 (pilgrimage)

پر سعودی حکومت نے پابندی عائد کردی ہے ۔۔وجہ شدید گرمی ۔۔۔یہ موسمی حدت اور خدا اور اس کے بندے کے بیچ رکاوٹ بن جانا میرے دل ناداں کو بہت گراں گزرا۔۔۔ویسے یہ پابندی اور وجہ میرے خیال سے تو بلکل بے بنیاد ہے۔۔بات کمسنی کمزوری کی ہے توبھی اللہ جب کسی کو اولاد جیسی نعمت سے نوازتا ہے تو اسکے ذمے اولاد کے حقوق کی تکمیل بھی ڈال دیتا ہے ۔۔۔اولاد کی نگہبانی پرورش سب کی ذمے داری ماں باپ کو تفویض کر دی جاتی ہے ۔اب پتہ نہیں سعودی حکومت خدا اور اسکے بندوں کے بیچ کیوں روڑے اٹکا رہی ہے ۔۔

میں زرا سادہ اور سیدھے الفاظ میں اپنا نقطہ نظر

(point of view)

واضح کرنا چاہتی ہوں۔۔بچے والدین کی ذمہ داری ہیں تو آپ کی سردردی کیا ہے؟بڑے افسوس کے ساتھ یہ تلخ حقیقت بتانا چاہ رہی ہوں کہ پاکستان میں لوگ بڑھاپے کی انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں تو پھر کعبے کے چکر فرض ہوجاتے ہیں۔۔یہ بھی کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ 900

چوہے کھاکے بلی حج کو چلی۔۔اب زرا سوچئے آپ بڑھاپے کی انتہاء

(extreme stage)

کو چھوء رہے ہیں آپکا وجود کمزوری کی وجہ سے ہچکولے کھارہا ہے آنکھیں دیکھنے سے قاصر کان سننے سے ۔۔اگر بیٹھ جائیں تو کسی وسیلے کے بغیر اٹھ نہ سکیں تو ۔۔۔جب آپ میں ہمت ہی نہیں تب چل پڑے صفا اور مروہ کی سعی (struggle )

کرنے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.چکر سے یاد آیا میری نظر سے ایک تحریر گزری جسکے الفاظ کچھ یوں تھے!"کیا کعبے کے چکر لگانے سے لوگوں کو دئیے گئے چکر معاف ہو جاتے ہیں ؟"میرے دل  نے تو فورا  کہا!بلکل  نہیں۔۔۔ویسے آپ کیا کہتے ہیں؟؟

۔بس جی خدا کی کرنی ہے جو بھی چاہے بیشک وہی قادر ہے ۔۔اس کی ذات کے بھی کیا کہنے!جسے چا ہے تو نواز دے !یہ داستان ہے خضرت ھاجرہ علیہ السلام(والدہ) 'خضرت ابراہیم علیہ السلام(والد)اور کمسن شیر خوار 

(infant)

اسماعیل علیہ السلام(فرزند)کی ۔۔خدا پروری یقین کامل 'عجزوانکساری کی لازوال داستان جسے اللہ عزوجل نے سنت ابراہیمی کی صورت مسلمانوں کے لیے لازم کر دیا

 ۔۔اب ذرا حج کے پس منظر کو واضح کرتے ہیں ۔۔اپنی اولاد کی بے چینی بھوک پیاس اور تڑپ سے بے چین

(enxiety)

ہوئےبے آب و گیاہ ریگستان میں حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے صفا و مروہ کے درمیان جو چکر لگائے ۔۔اسی کی یاد کو زندہ رکھنے کے لئے مسلمانوں پر سعی (حج کا ایک اہم رکن جو سعی کہلاتا ہے )یعنی صفا و مروہ کا طواف فرض کر دیا ۔۔۔آب زم زم پانی کا وہ چشمہ ہے جو کمشن اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیاں رگڑنے پر اللہ عزوجل کی قدرت سے پھوٹ پڑا جو تمام انسانوں کے لئے شفایاب ہے اور رہتی دنیا تک قائم دائم رہے گا۔۔

اور قربانی 

(sacrifice)

جو مسلمانوں پر فرض

(obligation)

ہونے کے علاوہ تکمیل حج کا ایک بنیادی رکن ہے یہ اس واقعے کی یاد دہانی ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم خداوندی پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنے شیر خوار فرزند محترم(اسماعیل علیہ السلام )کو قربان کرنے کے لیے گردن پر چھری پھیری تو اللہ تعالٰی نے آسمان سے دنبہ/بکرا نازل کر دیا یوں بارگاہ خداوندی میں ابراہیم اور اسماعیل علیہ السلام کڑی آزمائش میں سرخرو ہوئے اور حلال جانور کی قربانی فرض کر دی گئی۔۔

اب بات کرتے ہیں حجر اسود کی زائرین جس کا بوسہ لیتے ہیں۔۔حجر اسود دراصل دراصل سفید پتھر

(white stone)

ہے اور موجودہ شکل میں ڈھل گیا ہے۔۔اس کے پس منظر 

(background)

میں جائیں تو پتہ چلے گا کہ جب حکم خداوندی سے کعبے کی ازسر نوتعمیر کا مرحلہ آیا تو قریش کے سردار قبیلے آپس میں لڑائی پر آمادہ ہو گئے کہ ہر کوئی چاہتا تھا کہ حجر اسود نصب کرنے کا شرف اسی کو ملے ۔۔بالآخر اشتراک رائے سے طے یہ پایا کہ جو شخص صبح سب سے پہلے یہاں پہنچے گا وہی اس شرف کا اہل ہوگا ۔۔۔ اس پر قریش کے سبھی سردار متفق ہو گئے۔۔اب جب صبح بیدار ہوئ تو جو شخص پہلے پہنچا وہ آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس تھی ۔۔اب ایک چادر لی گئ جسکا ہر کونہ ایک قریشی سردار کے (چار سردار +چار کونے )ہاتھ میں تھا۔

اب آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے پتھر اٹھایا اور چادر مطلوبہ مقام تک لے جائ گئ اور نبی آخرالزمان حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے مبارک ھاتھوں سے پتھر مطلوبہ جگہ پر رکھ دیا یوں قریشی سرداروں کے بیچ ہونے والی خونریز جنگ کا(خاتمہ )انخلاء ہو گیا تب شاید سارے مجمعے میں آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم ہی کم عمر تھے ۔اب اس پتھر کی موجودہ شکل کھوکھلی اور رنگت سیاہ ہو گئ ہے جسکی وجہ سے لوگ اسے کالے پتھر کے نام سے ہی پکارتے ہیں۔۔

ویسے بزرگوں کے بارے میں کیا سوچ وچار ہیں سعودی حکومت کے جو ضعیف العمری میں جب تمام اعصاب جواب دے جاتے ہیں کعبے کو چل پڑتے ہیں اور حالتِ قریب المرگی میں اگر کسی کی روح مسافر ہو جائے تب کہنے والے یہی کہتے ہیں اور سننے میں آتا ہے فلاں فلاں بزرگ حج کی سعی کرتے ہوئے جان سے گزر گئے ۔۔۔فلاں بندہ بڑا ہی نیک ہے خانہء خدا میں جان نکل گئ۔۔۔کس کو بھوکے پیاسے مارنا ہے یا ڈبو کر ۔۔سب اختیار تو اسی کے ہاتھ ہیں۔۔لیکن ہم اچھی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔۔

ایک آخری بات مسلمان ہونے کے ناطے قیامت اور مرنے کے دوبارہ زندہ ہوں یہ ھمارا ایمان ہے تو گہری تحقیق سے معلوم ہوا کہ جب قیامت کے دن ثور پھونکا جائیگا تو وہ مقام جہاں انسان اکٹھے کئے جائینگے وہ میدان عرفات ہوگا اور دیدار خداوندی بھی ہو گا ۔۔اگر کوئی بات غلط ہو اور آپ کو درست بات کا پتہ ہے تو خوش آمدید۔۔انسان خطا کا پتلا اور ناقص العلم ہونے کی وجہ سے بہرحال غلطی کا امکان رہتا ہی ہے ۔۔اور خدا کی ذات معاف کر دینے والی ۔۔خدا ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔آمین 

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.