گستاخی معاف۔۔۔۔۔وہی مقام وہی انجام۔۔۔

 ستمبر 2012/11بلدیہ ٹاؤن کراچی گارمنٹس فیکٹری  میں  لگنے والی

آگ جسکے نتیجے  میں 

300   

کے لگ بھگ  جیتے جاگتے  انسان پل بھر میں جل کر خاکستر  ہو  گئے۔ درجنوں  زخمی اور لاپتہ۔

اور 17جنوری2026 گل پلازہ آتشزدگی ہلاکتیں تقریبا67 اور لاپتہ 76 اور بچ جانے والے زخمی افراد۔۔۔بس جی جسے خدا رکھے۔۔۔خیر یہ اعدادوشمار تو کسی بھی اخباری ذرائع سے لے سکتے ہیں۔۔۔کیا انسانی زندگی اتنی بے وقعت ہے؟اگر تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپکو تاریخی تصویر کاچہرہ خونی اور بھیانک دکھے گا جس میں تخت کے حصول کیلئے خونی رشتوں کی جان سے کھیلنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا تبھی تو اگر آپ صرف مغلیہ سلطنت کی حکومت سیاست 'ریاست اور کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس حقیقت کا ادراک ہو گا کہ بابر سے لے کر اورنگزیب عالمگیر تک تاج کے حصول کیلئے کسی نے باپ کی آنکھیں نکال کر پابند سلاسل کیا توکسی نے بھائیوں کو راستے سے ہٹانے کیلئے موت کے گھاٹ اتار دیا۔۔۔۔تو دوسرا رخ نہایت ہی روشن اور قابل ستائش ہے ۔۔۔جی بالکل بات ہورہی ہے لاہور کی شان و شوکت انہی قدیم فن پاروں سے ہے مثلا بادشاہی مسجد 'مینار پاکستان 'مقبرہ جہانگیر  وغیرہ کسی بادشاہ کا مسکن نہیں بلکہ عوامی تفریحی مقامات تھے بھی اور ابھی بھی ہیں۔۔۔تو کیا کبھی سننے میں آیا کہ مینار پاکستان 'بادشاہی مسجد یا کسی دیگر یادگار کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر تفریح کیلئے آیا ہوا جم غفیر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا؟؟؟؟صرف چند امراء کے علاوہ لاہوریوں کو تو اورنج لائن اور میٹرو کا علم ہی نہیں تو کیا اسکی رسائی عوام تک ہے ؟؟؟اب آپ کو مفت میں پتے کی بات بتاتی ہوں۔۔۔چند برس پہلے میرا لاہور جانا ہوا تب میٹرو تو بہت پرانی تھی لیکن اورنج لائن کو چند برس ہی گزرے تھے ۔۔۔اور میری ضد کہ ہم اندرون لاہور میٹرو اور اورنج لائن سے ھی سفر کریں گے ۔۔۔اب موبائل کہیں باہر مجھ سے نہیں چلتا۔۔پتہ نہیں کیوں مجھے بہت معیوب لگتا ہے کسی چوراہے یا لوگوں کے ہجوم  میں ۔۔اب میٹرو کے روٹ سمجھ نہیں آرہے تھے کہ جہاں  سے بیٹھیں اور مطلوبہ مقام پر ہی اتریں ۔۔۔ایک عام سی بات ہے آپ کسی بھی بڑے شہر میں اتریں تو آپکو چنگچی اور منی ٹرانسپورٹ والے گھیر لیں گے اور آپکو یوں لگے گا یہ تو آپکو زبردستی بٹھا لیں گے۔۔خیر اب میں نے ایک دو بڑی دکانوں  سے اور چند لاہوریوں سے میٹرو اور اورنج لائن بارے راہنمائی چاہی تو  عجیب عجیب شکلیں بنا کر بولے ۔۔یہ کیا بلا ہے ۔۔۔کچھ نے اتنا غصہ کیا اور اپنے باپ دادا کے لاہوری ہونے کی سو دلیلیں دے ڈالیں۔۔پھر ہوا یوں  ہم میں جلد سے سوار ہوئے کیونکہ وقت کم تھا اور ہمیں وقت پر پہنچنا تھا ۔۔۔میٹرو بہت کم اور اورنج لائن جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔۔۔اس میں پرسکون نشستوں ٹھندے کمرے کے علاوہ نقشہ ساونڈ سسٹم جو آپکو چپے چپے کی لوکیشن بتاتا ہے سب بہت اعلٰی۔۔۔نہایت پرسکون ماحول میں اعصاب بحال ہوئے تو مجھے ایک وہم نے گھیر لیا۔۔۔اگر حسب معمول پاکستان کی ٹوٹی پھوٹی ٹرانسپورٹ سے کہیں جا رہے ہوں  تو دھکم پیل گنجائش سے زیادہ لوگ بغیر مینٹی نینس کے گاڑیاں۔۔۔ان سب جھمیلوں میں کوئ سوچ آتی ہی نہیں اور آپ خدا خدا کرکے منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں۔۔وہم یہ ھو رہا تھا کہیں کوئ حادثہ نہ ہو جائے ۔۔۔اس لائن کی تعمیر ہوتے ہوتے کئی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔۔وہ اسطرح زیرتعمیر لائن کا کوئ حصہ گر گیا تو کبھی تعمیر شدہ لائن آندھی یا چند بوندیں پڑنے سے مسمار ہوگئ۔۔۔ویسے سوچنے کی بات ہے جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے انکوائری  تفشیش اور تجزیے کے بعد بالآخر یہ نچلے درجے کے ملازمین سیکورٹی گارڈز 'چوکیدار اور ٹھیکیدار/contractor ہی موءردالزام یعنی قصور وار ٹھرائے جاتے ہیں۔۔آخر کیوں؟؟؟


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.