گستاخی معاف!پاکستانی برانڈز کی چھپی ہوئی لوٹ مار !20'25 سے 75 روپے تک کی اضافی وصولی ؟

 بالفرض آپ یا میں مطلب ہم میں سے کوئی بھی کسی بھی 

branded store 

پر شاپنگ کیلئے موجود ہیں ۔۔اور چیزوں کے علاوہ آجکل کپڑوں اور جوتوں کے بارے برانڈ 'برانڈ کی ہر سو چرچا ہے۔۔۔

ہم اگر کسی کے لباس پر

edenrobe 

'stylo'ethnic' miniminor 

یا کسی بھی دوسری برانڈ کا tag 

یا سٹیمپ دیکھ لیں تو دیکھنے والا ٹھنڈی آہ بھر کر حسرت ذدہ نگاہوں سے دیکھے گا اور برانڈڈ ملبوس کی گردن یوں تن جائے گی جیسے کوئی میدان مار لیا ہو ۔۔۔۔آپ یقینا با خبر ہونگے کہ یہ تمام برانڈ پاکستانی اور each&everything 

made in Pakistan. 

۔چلیں یہ سب تو چلتا ہے لیکن جب آپ کوئی کپڑا جوتی یا کوئی اور دوسری شئے برانڈڈ مال یا سٹور سے خرید رہے ہیں تب اول تو انکی قیمت کچھ اسطرح ہوتی ہے چاہے آپ 

 discounted  

والی آئٹم

 buy 

کریں یا ٹوٹل پرائیس والی۔۔۔

Rs=1925/

Rs=1975/

Rs=1935/

Rs=875/

Rs=995/

وغیرہ اور جب آپ کاونٹر پر پیمنٹ کرنے جائینگے تومثال کے طور قیمت اگر 1975/ہےآپ نے 

2000/

کا نوٹ دیا اور آپکو کمپیوٹر آلات میں 

🖥 computing 

کے بعد پرنٹڈ وصولی رسید تھما دی جس پر وصولی 1975/ہی درج ہے جبکہ آپ کے 2000/نہ بقایا نہ پوچھ پکڑ۔۔۔بڑی ہی سرعت سے یہ 75 روپے آپ کی جیب سے نکلے ناحق لینے والے نے یوں لئے جیسے آپ اس کے مقروض ہوں؟تو کیا ہم یہ سب کرنے پر مجبور ہیں؟؟؟قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے تو پھر یہ مال مفت جا کس طرف رہا ہے ؟؟؟ویسے طریقہ بہت ہی اعلٰی ہے لوٹنے والوں کا ۔۔۔لٹنے والے ہنسی خوشی اپنی پونجی لٹا رہے ہیں۔۔۔اور اب تصویر کا دوسرا رخ ۔۔جب آپ برانڈ کی چیزیں دیکھ رہے ہوں تب آپکو یہ سننے کو ملے گا ۔۔میڈم!ان سب کی پرائس فکس ہے ۔۔سوری !ہم اس میں کوئ کمی بیشی نہیں کر سکتے۔۔یہ قیمتیں پیچھے سے ہی لگ کر آتی ہیں۔۔آپ اپنا بجٹ بتائیں ہم اسی کیمطابق آپ کو دکھا دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔اور وصولی کے وقت 

بیس 30

یا 75 روپے تک ضبط کر لینا روزمرہ ہونے والی ایک عام سی واردات ہے ۔۔۔

اور سنئے تو ان کی پالیسیاں۔۔۔مثلا sale والی آئٹم کی واپسی نہیں ہوگی۔۔اگر آپ نے ایک سے دو تین یا چار چیزیں بیک وقت ایک ہی جگہ سے آرڈر کیں تو ماسوائے اکادکا برانڈ کے چار دنوں میں ایک ایک آئٹم پہنچے گا اور ستم ظریفی کی انتہاء۔۔۔صرف ethnic 

آپکو بیک وقت ملٹی پل آئٹم parcels 

مطلوبہ جگہ( doorstep) پر پہنچائے گا 

اور دوسرے دو آئٹم ایک ساتھ نہیں بلکہ ایک ایک کرکے دو دنوں میں اور آپکی دہلیز پر نہیں بلکہ نزدیکی اڈے پر۔۔۔اور آجکل اک نئی ستم ظریفی۔۔۔

rider 

کی طرف سے پیشکش کے ہم آپکا پارسل آپ تک لے آتے ہیں لیکن

 ⛽️due to high fuel prices 

آپ ہمیں 250 دے دیں وہ بھی مخظ 1کلومیٹر سے 2km 

کے فاصلے پر۔۔۔۔اور

 rider

پارسل دے کر وصولی کچھ اسطرح کرتےہیں۔۔۔حالانکہ

 order tracking 

sms 

وغیرہ سے آپ لمحہ بہ لمحہ باخبر رہتے ہیں اور علاوہ ازیں پارسل کی پشت پر بھی رسید چسپاں ہوتی ہے۔۔۔اس کے باوجود 

rider 

بڑی ڈھٹائی سے 70

سے 75 روپے زائد آپ کو بتائے گا اور یقینا یہاں بھی پہلے جیسی واردات ہو گی۔۔۔اب قیمت تو آئٹم کی اسی طرح سے ہوگی 975/Rs=1275

وغیرہ اب یہ اوپر کی رقم 75 روپے سے لے کر 150 تک یا کبھی کبھار اس سے بھی زیادہ ہڑپ کر لے گا ۔۔اور اگر آپ حاضر دماغی اور عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ زائد وصولی کا مطالبہ کرتے ہیں۔۔تب رائیڈر کی طرف سے چوری پکڑے جانے پر نہ احساس ندامت نہ غلطی کا ازالہ فقط یہ الفاظ 175 بچ گئے آپکے ۔۔نوٹ جیب میں رکھے اور چل دیئے کسی نئے مقام کی طرف اسی پرانی واردات کی انجام دہی کے لیے۔۔۔اور پھر ہم خریداروں کے ساتھ معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے۔۔مشہور کہاوت ہے نا۔۔۔دمڑی کی بڑھیا ٹکاسرمنڈائ !دونوں صورتوں میں چاہے

 coD

ہو یا براہ راست کسی

 outlet/super stores

سے خریداری۔۔۔تو پھر کیا واقعی ہم لٹنے پر مجبور ہیں؟

تو پھر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا ؟آئیے  پہلا  قدم اٹھائیں۔۔اپنی بقایا رقم ضرور طلب کریں۔۔۔رائیڈر کو ایک  روپیہ  بھی زیادہ نہ دیں۔۔ہچکچائیں نہیں  بلکہ لین دین بلکل پورا  پورا۔۔۔کوئی چھوٹ نہیں اور نہ ہی اضافی رقم کی ادائیگی  ۔۔۔


 


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.